Skip to main content


عبداللہ طارق سہیل
ایران میں چل چلائو

ایران میں مظاہرے شروع ہوئے دو ہفتے ہو گئے اور اب 31 کے 31 صوبے اس احتجاجی تحریک میں شامل ہیں جو شروع تو مہنگائی کیخلاف ہوئی تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ’’تختہ الٹو‘‘ تحریک میں بدل گئی۔ آخری صوبہ جو تحریک میں شامل ہوا وہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ ’’بلوچستان سیستان ‘‘ ہے۔ کل زاہدان میں بہت بڑا جلوس نکلا جو سرحد کے بالکل پاس واقع ہے۔ یہ ان چار مشرقی صوبوں میں شامل ہے جو پاکستان اور افغانستان سے ملحق ہیں اور جہاں سب سے آخر میں احتجاج کی لہر پہنچی۔ باقی تین صوبوں کے نام خراسان ہیں یعنی خراسان شمالی، خراسان وسطی، خراسان جنوبی۔ 
اب محاورتاً نہیں، لغوی معنوں میں سارا ایران جل رہا ہے۔ سرکاری عمارتیں، گورنر ہائوس، پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر، تھانے، ریڈیو سٹیشن، عدالتیں، پولیس کی گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں۔ حکومتی قائدین کے مجسمے بھی گرائے اور جلائے جا رہے ہیں اور حکمرانوں میں سے ہر ایک کا نام لے لے کر ’’مرگ بر…‘‘ یعنی مردہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ گزرے کل مظاہروں کی شدت اور تشد اتنا بڑھ گیا کہ حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ سروسز سو فیصد بند کر دیں، مکمل بلیک آئوٹ ہو گیا پھر بھی، مظاہروں کی وڈیوز اور خبریں، شاید سیٹلائٹ والے فون سے یا کیسے چھن چھن کر بیرون دنیا تک پہنچتی رہیں۔ یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ پاسداران انقلاب کے افسروں نے اپنے بیوی بچوں کو روس اور فرانس بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ 
حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی ہر جگہ کی جا رہی ہے۔ یہ انوکھی تحریک اس لئے بھی ہے کہ یہ کسی سیاسی جماعت یا اپوزیشن لیڈر سمجھے جانے والے فرد کی طرف سے نہیں چلائی جا رہی۔ کیونکہ ایران کے نظام حکومت میں اپوزیشن جماعت کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہا یہاں تک کہ حکومت کے اندر سے بھی کوئی فرد اختلاف کرے تو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے یا کسی پراسرار واقعے کے نتیجے میں ہلاک ہوجاتا ہے، جیسے ہمارے ہاں ناپسندیدہ افراد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں۔ 
اس طوفان خیز تحریک کا کوئی قائد نہیں، کوئی تنظیم نہیں۔ ہر شہر اور قصبے میں یہ عوام کے ’’ازخود‘‘ نوٹس پر گویا چل رہی ہے۔ مغرب میں قیاس آرائی ہے کہ شاہ ایران مرحوم کے صاحبزادے رضا شاہ نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے__ کیوں؟۔ اس لئے کہ ایرا ن میں ایسا کوئی بچا ہی نہیں جسے متبادل قیادت کا نام دیا جا سکے۔ 
رضا شاہ اسرائیل کے وفادار ہیں۔ یہودیوں کی مذہبی غیر مذہبی تقریبات میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں، انہی کی بولی بولتے ہیں۔ بعض تقریبات میں تو انہیں ’’دولہا‘‘ کا پروٹوکول ملتا ہے۔ 
کیا وہ ایران کے صدر بن پائیں گے۔؟۔ مرحوم شاہ ایران کے خلاف آیت اللہ شریعت مدار مرحوم کی زیر قیادت تحریک چلائی گئی۔ بائیں بازو کے لوگ بھی تحریک میں شامل ہو ئے یعنی وہ بھی جو کالعدم قرار دی گئی تو وہ پارٹی کے لوگ تھے۔ لیکن جب آخری مرحلہ آیا تو فرانس میں جلاوطن رہنما آیت اللہ خمینی خصوصی فرانسیسی طیارے پر بٹھا کر ایران روانہ کر دئیے گئے۔ ادھر ان کا طیارہ تہران ائیر پورٹ پہنچا، اْدھر شاہ ایران ملک سے نکل گئے۔ ایک ہی روز قبل امریکہ نے ان سے رابطہ کر کے بتایا تھا کہ ملک چھوڑ دو، ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔ اگلے ہی روز خمینی سربراہ مملکت بن گئے۔ آیت اللہ شریعت مدار دیکھتے ہی رہ گئے۔ کچھ دنوں بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ 
اسی لئے پوچھا گیا کہ رضا شاہ صدر بن پائیں گے؟۔ آخری لمحات میں کوئی اور تو کرسی صدلارت نہیں لے اڑے گا؟۔ 
فی الحال کے آثار یہی ہیں کہ نئی حکومت اسرائیل نواز ہو گی۔ یعنی پاکستان کیلئے ایران کی طرف سے پریشانی ٹلے گی نہیں۔ لیکن عین موقع پر کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایران کے اندر عوامی سطح پر امریکہ سے محبت کے جذبات کا طوفان امڈ رہا ہے لیکن اسرائیل کیلئے دلوں میں کوئی گنجائش نہیں۔ ’’وقوعہ‘‘ ہونے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، وقوعہ ہونے کے بعد کیا ہو گا، اس کی نہیں۔ 
___
1980ء یا 1981 ء کی بات ہے۔ میرے ایک ولی اللہ صفت ، نہایت نیک اور مخلص دوست تشریف لائے اور بتایا کہ پاکستان، ایران اور افغانستان ’’ایک‘‘ ہونے والے ہیں۔ کابل سے قلات تک اور لاہور سے تبریز تک ایک ہی اسلامی خلافت قائم ہونے والی ہے۔ 
پوچھا کیسے؟۔ کہنے لگے پاکستان میں ضیاء الحق نے اسلام نافذ کر دیا۔ خمینی نے ایران میں اسلامی حکومت بنا لی۔ دوچار برس میں روس افغانستان سے بھاگ جائے گا۔دوچار تو نہیں، البتہ سات آٹھ برس بعد روس واقعی افغانستان سے بھاگ گیا۔ طورخم بارڈر کے دوسری طرف پچاس میل تک کابل حکومت ختم ہو گئی۔ دونوں ممالک کے مجاہدین آزادانہ آتے جاتے رہے۔ 
لیکن ہوا کیا، افغانستان اور ایران میں طاقت میں آنے والوں نے اپنے اپنے ملکوں کا بیڑہ غرق کیا تو کیا ہی،دونوں کی پراکسیز نے پاکستان کو بھی اجاڑستان بنا ڈالا۔ 
سہانے سپنوں کی کتنی بھیانک تعبیر نکلی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Group sex in Shia temples aka Imam bardas

Why Shia perform Group sex on 9th Moharam, Please note it is different from Eid-e-Ghadeer or Group Muttah

Tayyaba Khanam Bukhari Fashion

  Tayyaba Khanam Bukhari Shia religious & Political figure in Pakistan  giving her fashion statement during foreign Visits whereas at Local TV channel she appear as the best example of Hijab,What a hypocrite   Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari  Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari Tribute to syeda Tayyaba Khanam Bukhari

LUMS Shia teacher found guilty of sexually harassing student

LUMS Shia teacher found guilty of sexually harassing student http://www.pakistantoday.com.pk/2014/11/01/national/lums-teacher-found-guilty-of-sexually-harassing-student-2/ The federal ombudsperson has directed the Lahore University of Management Sciences (LUMS) to remove Abid Hussain Imam, a faculty member at the varsity’s law department, over charges of sexually harassing a female student. According to the judgement, a copy of which is available with Pakistan Today , the Federal Ombudsman Secretariat for Protection against Harassment of Women at Workplace set aside the decision of LUMS enquiry committee and handed a “removal from service” order to Imam. The LUMS administration has been directed to implement the order in letter and spirit. Per details, the complainant, a student at LUMS’ Sheikh Ahmed Hassan School of Law, had filed an appeal with the ombudsperson against the decision of the LUMS enquiry committee, alleging that Imam remarked of “mala fide inte...